پیر 18 مئی 2026 - 15:22
خطیب بے مثال مولانا مرزا محمد طاہر قدس سرہ

حوزہ/کیا ہی پاکیزہ، باوقار اور نورانی ذات تھی فخرُ الواعظین مولانا مرزا محمد طاہر صاحب کی، کہ واقعی اسمِ بامسمّیٰ تھے۔ اس خانوادۂ علم و خطابت کا سرکارِ ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفیٰ سے عشق و وابستگی اس درجہ تھی کہ آپ کا نامِ نامی “محمد طاہر” رکھا گیا۔ آج بھی لکھنؤ کے بزرگ جب ان کا تذکرہ کرتے ہیں تو ادب، عقیدت اور احترام سے کہتے ہیں کہ وہ نہایت مقدس، باعمل اور صاحبِ اخلاص عالم و خطیب تھے۔

تحریر: مولانا سید ابو القاسم رضوی

رئیس شیعہ علماء کونسل میلبورن آسٹریلیا

حوزہ نیوز ایجنسی| کیا ہی پاکیزہ، باوقار اور نورانی ذات تھی فخرُ الواعظین مولانا مرزا محمد طاہر صاحب کی، کہ واقعی اسمِ بامسمّیٰ تھے۔ اس خانوادۂ علم و خطابت کا سرکارِ ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفیٰ سے عشق و وابستگی اس درجہ تھی کہ آپ کا نامِ نامی “محمد طاہر” رکھا گیا۔ آج بھی لکھنؤ کے بزرگ جب ان کا تذکرہ کرتے ہیں تو ادب، عقیدت اور احترام سے کہتے ہیں کہ وہ نہایت مقدس، باعمل اور صاحبِ اخلاص عالم و خطیب تھے۔

ان کی زندگی کا ایک ایسا پہلو جو سننے والوں کے دلوں کو آج بھی گرما دیتا ہے، وہ ان کی خدمتِ عزا اور دردِ تشیع تھا۔ لکھنؤ کے بزرگوں سے یہ بات بارہا سننے میں آئی کہ جن عزاخانوں میں غربت اور تنگدستی کے سبب مجالسِ عزا ملتوی کر دی جاتی تھیں، وہاں مولانا مرزا محمد طاہر صاحب خود تشریف لے جاتے، صاحبِ عزاخانہ سے فرماتے: “مجلس کا اعلان کیجیے، میں خود خطاب کروں گا۔” پھر نہ صرف مجلس پڑھنے جاتے بلکہ شیر مال کے ٹکڑے بطورِ تبرک تقسیم کرتے، یا نمک پارے، بوندی اور معمولی سی ضیافت لے جاتے تاکہ صاحبِ عزا کی دلجوئی بھی ہو اور چراغِ عزا بھی روشن رہے۔یہی وہ اخلاص تھا، یہی وہ درد تھا جس نے تشیع کو زندہ رکھا۔ یہ محض خطابت نہیں تھی، یہ خدمتِ حسینؑ تھی، یہ عشقِ اہلِ بیتؑ کی عملی تفسیر تھی۔

آپ کے فرزندوں نے بھی اس علمی و عزائی روایت کو عظمت عطا کی۔ ایک جانب مولانا مرزا محمد جعفر صاحب تھے اور دوسری طرف اردو خطابت کی روح، خطیبِ اکبر مولانا مرزا محمد اطہر صاحب، جن کی وفات کو دس برس گزر چکے ہیں۔ انہوں نے والدِ گرامی کی وفات کے چالیس سال بعد اس دنیا سے رخصت پائی اور مسلسل چون برس تک مغل مسجد سے عشرۂ مجالس کو اپنے علم، استدلال اور سوزِ بیان سے آباد رکھا۔ ان کی خطابت زم زم سے دھلی ہوئی محسوس ہوتی تھی؛ قرآن، احادیث، تاریخ اور عقل و منطق سے مزین ایسی گفتگو جسے سن کر سامعین کے دل و دماغ دونوں منور ہو جاتے تھے۔
‎زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا، ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
‎آپ کے سب سے چھوٹے فرزند، خطیب العرفان مولانا مرزا محمد اشفاق صاحب شوق لکھنوی، منفرد لب و لہجے کے خطیب اور قادرالکلام شاعر تھے۔ مشکل ترین ردیفوں میں شعر کہنا گویا ان ہی کا امتیاز تھا۔ ان کی گفتگو میں ادب کی چاشنی، علم کی گہرائی اور محبتِ اہلِ بیتؑ کی حرارت نمایاں محسوس ہوتی تھی۔

اس سال مولانا مرزا محمد طاہر صاحب کی وفات کو پچاس برس مکمل ہو رہے ہیں۔ یہ محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک عہد کی یاد ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ نئی نسل کو اپنے ان بزرگوں، ان خادمینِ عزا اور ان معماروںِ فکر و عقیدہ سے روشناس کرائیں جنہوں نے سخت ترین حالات میں دین، عزاداری اور تشیع کی شمع روشن رکھی۔

اردو خطابت کو خطیبِ اکبر اور خطیب العرفان جیسی عظیم شخصیات عطا کرنے والی شخصیت مولانا مرزا محمد طاہر صاحب کی ذاتِ گرامی تھی۔ آپ عالمِ باعمل تھے، منبر کے سچے سپاہی تھے، نہایت سادہ مزاج، خلیق اور مخلص انسان تھے۔ دفاعِ ولایت، ذکرِ فضائل و مصائبِ محمد و آلِ محمدؑ اس خاندان کی شناخت تھی اور آج بھی ہے۔
‎آج مولانا مرزا اعجاز اطہر صاحب اور مولانا مرزا یعسوب عباس صاحب اسی پاکیزہ روایت کے امین ہیں اور شب و روز تبلیغِ ولایتِ ائمۂ اطہارؑ، خدمتِ دین، قوم و ملت میں مصروفِ عمل ہیں۔ یہ اسی تربیت، اسی دعا اور اسی اخلاص کا تسلسل ہے۔
‎حضرت ابراہیمؑ نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی تھی:
‎﴿رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ﴾(سورۂ ابراہیم، آیت ۴۰)
“پروردگار! مجھے اور میری ذریت کو نماز قائم کرنے والا قرار دے اور اے ہمارے رب! میری دعا قبول فرما۔”
‎شاید مولانا مرزا محمد طاہر صاحب نے بھی اپنی نسل کے لیے ایسی ہی کوئی دعا کی ہوگی کہ:
‎“اے معبود! میری ذریت کو حسینؑ کا ذاکر بنا دے۔”
‎کیونکہ حقیقت یہی ہے:

ذکرِ شبیرؑ سے ملتی ہے ذکرِ خدا کی توفیق ذکرِ شبیرؑ کی توفیق خدا دیتا ہے، جب بھی اردو خطابت، عزاداری اور منبرِ اہلِ بیتؑ کا ذکر آئے گا، اس خانوادے کا نام سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ ایک ہی گھرانے سے ایسی معتبر، باوقار اور درخشاں شخصیات کا ظہور یقیناً ایک نعمتِ خداوندی ہے۔

جو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے

مولانا مرزا محمد طاہر صاحب نے اس دور میں فرشِ عزا کی خدمت کی جب زمینداری کا خاتمہ ہو چکا تھا، مومنین کے معاشی حالات انتہائی دشوار تھے اور کئی گھروں میں مجالس کا انعقاد محض ایک حسرت بن کر رہ گیا تھا۔ ایسے وقت میں گھر گھر جا کر مجالس کو زندہ رکھنے والا، نسلوں کی تربیت کرنے والا اور عزاداری کی شمع کو بجھنے نہ دینے والا اگر کوئی خطیب تھا تو وہ مولانا مرزا محمد طاہر صاحب تھے۔

خداوندِ عالم نے ان کی اس خالص خدمت کو ایسا شرف عطا فرمایا کہ جب ۱۹۷۶ء میں آپ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو مصرعۂ تاریخ نے گویا ان کی پوری زندگی کی گواہی دے دی: “اَلا وَمَنْ مَاتَ عَلَى حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ مُسْتَكْمِلَ الْإِيمَانِ” یعنی وہ اس دنیا سے کاملُ الایمان رخصت ہوئے۔

ربِ کریم مولانا کے درجات بلند فرمائے، ان کے اس علمی و عزائی مشن کو اسی کمال اخلاص کے ساتھ بر قرار رکھنے کی توفیق عطا فرمائے! آمین

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha